ABOUT US

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipisicing elit Necessitatibus.

ABOUT All india deeni madaris jadeed technology trust

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی آنکھوں نے

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی’’

تنظیم جس کا عنوان ’’آل انڈیا دینی مدارس جدید ٹیکنالوجی ٹرسٹ‘‘ ہے، اس تنظیم کے مقاصد تمام فلاحی، ترقی پسند، اصلاحی اور خصوصاً تعلیمی بیداری و جدید ٹیکنالوجی کے کاموں میں حصہ لینا ہے، مادرِ وطن کے ہر شعبہ َجات خصوصاً تعلیمی شعبہَ جات کا گہری نظر سے جائزہ لیا تو ملک عظیم کے پسماندہ طبقہ کے طلباء و طالبات بالکل نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں ، سوچنا یہ ہے کہ آخر ان بچوں کا مستقبل کیسے سنور سکے اس کی خاص وجہ اعلیٰ تعلیم کی کمی ہے ۔ تعلیم کی کمی کی وجہ سے نا امیدی دن بدن کفر و شرک اور غیر شرعی رسومات کے دلدل میں پھنس رہی ہے، نا امیدی گھر کر چکی ہے ۔ جب کے نا امیدی حقیقتاًجذبہَ ایمان کی کمی اور احساس کمتری کی پیداوار ہوتی ہے ۔ یہ ایک انتہائی مہلک مرض ہے جو قوت فکرو عمل کو مفلوج اور اقدامی صلاحیت کو ناکارہ بنا دیتا ہے، اسلامی نقطہَ نظر سے نا امیدی کفر کے مرادف ہے نا امیدی کا پودہ جس فرد یا گھر یا کسی قوم یا کسی ملک کو اپنی چپیٹ میں لے لیتا ہے ، تو لفظ انسانیت نام کی صفت کو بالکل ختم کر دیتا ہے ۔ اور یہ مرض ہر فرد، ہر گھر، ہر شہر اور ہر ملک کے لیئے سنگین خطرہ بن جاتا ہے ۔ آج یہ صورتحال باعث تشویش ہے کہ علم و ادب کی محفل ہو یا وعظ و نصیحت کی مجلس، تحریر و تقریر کا میدان ہو یا قیادت کا اسٹیج ہر جگہ نہ امیدی کا سایہ نظر آئے گا، کوئی تبصرہ ، کوئی تذکرہ مسلمانوں کی زبوں حالی پسماندگی، نا خواندگی، غربت و جہالت کے ذکر سے خالی نہیں ہوتا، مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کا چرچہ ہر جگہ، قدم قدم پر شکست کا سامنا اور سب سے بڑی بھول یہ ہے کہ اسے اپنا مقدر سمجھ بیٹھنا ۔ یہ تنظیم خصوصاً مادر وطن کے ہر پسماندہ طبقات کے بچوں اور بچیوں کو آگاہ کرتی ہے کہ انسانی تاریخ میں فرعونیت اور ابو لہبی کے نا معلوم کتنے ادوار آئے ہیں ، ظلم و بربریت کے کتنے ہولناک مناظر چشم ِ فلک نے دیکھے ہیں ۔ لیکن فتح انسانی ضمیر اور سچائی کی ہوئی ہے ۔ اولوالعزم پیغمبروں اور حق و انصاف کے علمبردار وں کی عظیم الشان تاریخ اس پر شاہد ہے ۔ ہم نے اپنے پیارے وطن کے کچھ مخصوص حالات اور پریشانیوں کی نشان دہی کی ہے ۔ ایک بہتر زندگی کے لئے جو مادر وطن میں پریشانیاں ہیں ان کو دور کرنا ازحد ضروری ہے، ان سب کی ذمہ داریوں کو مکمل کرنے کے لئے مختلف شعبہَ جات کی تعمیرات ہونی چاہئے،اور ان شعبوں میں افرادی قوت بھی درکار ہوگی اور اس افرادی قوت کو حسب لیاقت مناسب اجرت دی جائے گی، مثال کے طور پر ہمارے ہزاروں بھائی ناجائز مقدمات میں جیلوں میں محبوس ہیں جن کی رہائی اور چھڑانے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی یہ ملت کا بڑا مسئلہ ہے اس کے لئے وکلاء فراہم کرانا ضروری ہوگا ۔ اور اس جہانِ فانی میں لاتعداد افراد، افلاس و بھوک کی عمیق گہرائیوں میں موت و زیست کے درمیان جھلس رہے ہیں ،جن کا آج کوئی پرسان حال نہیں ہے،خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ان کی امداد و اعانت و علاج و معالجہ نیز بہتر تعلیم و تربیت کے لئے عمدہ سے عمدہ ادارہ قائم کرنے کی تنظیم فکر مند ہے ۔ پہلے سے قائم شدہ اداروں کو امت مسلمہ مالی تعاون دیکر بھی یہ کام انجام دے سکتی ہے، اور ناگاہی فسادات میں ہزاروں بے سہارا اور بیوہ عورتوں اور یتیم ہونے والے بچوں کو پھر سے آباد کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ یہ فاوَنڈیشن اس کام میں اپنا پورا کردار ادا کرے گا ۔ یہ ہرملی خیر خواہ کی ذمہ داری ہے کہ ان کو دوبارہ سے بہتر زندگی عطا کی جائے ۔ آج کے دور میں ہمارے وطن کے معاشرہ میں اور خصوصاً مسلم معاشرہ میں شادی بیاہ ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے،لڑکیوں کی شادی کرنے میں لاکھوں روپئے کے اخراجات کو ضروری سمجھ لیا ہے ، جبکہ مذہب اسلام میں جہیز بالکل نہیں ہے، شریعت میں تو صرف مہر ہے اورشادی کی دعوتوں میں غیر شرعی لاکھوں کا فضول خرچ بھی شیطانی عمل ہے اور ہم اکثر مسلمان اس میں ملوث ہیں ، اور اتنا ہی نہیں سسرال والوں کا پیٹ صرف اچھی مہذب دلہن سے نہیں بھرتا بلکہ جہیز کے خاطر بے حد پریشانی ہی نہیں ،بلکہ کبھی کبھی بیٹیوں کو موت کے گھاٹ تک پہنچا دیا جاتا ہے ۔ یہ تنظیم ہر اہل وطن اور خصوصاً ملت مسلمہ سے ادباً گزارش کرتی ہے کہ ہر مسلمان جہیز نام کی چیز کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیں ، تاکہ ہماری بے بس بہن بیٹیاں خدا کی بنائی ہوئی زمین پر تا حیات عزت کے ساتھ رہ سکیں ۔ تنظیم خصوصاً ہر مسلمان سے درخواست کرتی ہے کہ اسلام نے عورتوں کو عزت دی ہے ، ناکہ ذلت ، یہ فاوَنڈیشن شریعت اسلامی کے ذریعہ امت مسلمہ کے اندر مختلف پروگرام کرکے بیداری لانا چاہتی ہے ۔ اور ایسی غریب بچیوں کی شریعت مطہرہ کے طریقہ پر شادی کرانا اور ان کاخرچہ برداشت کرنا فاوَنڈیشن کا مقصد ہوگا ۔ بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم مسلم نوجوانوں کے کردار سازی سے بالکل غافل ہو گئے ہیں ، مسلمان لڑکے اور لڑکیاں غیر شرعی کاموں میں جیسے بیجا موبائل کا استعمال، انٹرنیٹ،خاص طور سے ہمارے بچے اور بچیاں اپنے قیمتی وقت کو ضائع کر رہے ہیں ۔ اسلام میں کسی طرح کا جبر نہیں ہے، لوگوں پر ہدایت و گمراہی آشکار ہو چکی ہے ، آج امت مسلمہ ابتلاء اور آزمائش سے گزر رہی ہے، اور جو حالات ہیں وہ انتہائی نازک ہیں ،لیکن مایوس کن صورت حال ہرگز نہیں ہے، امت عقائدی ،نظریاتی اور سماجی طور پر سب سے زیادہ مضبوط،متحد اور مستحکم ہے ۔ مسلمانوں کے پاس وسائل بھی ہیں ،مواقع بھی ہیں ،تعلیم بھی ہے،سرمایا بھی ہے،اعتماد بھی ہے،لیکن ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ مسلم قیادت اور مسلم عوام کے پاس اسلام کی نمائندگی اور ملت کی صحیح ترجمانی نہیں ہے جس کے باعث امت کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے،اسکا اندازہ قومی سیاست میں اپنے نمائندوں ،مسلم لیڈر شپ کے ذاتی اور سیاسی کردار اور مسلم عوام میں بے دینی غیر اسلامی رسم و رواج کم و بیش ہر جگہ یہی پوزیشن ہے ۔ امت مسلمہ بلکہ انسانیت کی عظمت کی باز آوری کا واحد طریقہ اور مسائل و مشکلات کا واحد علاج قرآن و حدیث کے طریقہ پر عمل کرنا ہے ۔ حضرت عمر فاروق; ارشاد فرماتے ہیں ’’ہم وہ قوم ہیں جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ با عزت کیا ہے،اور جب بھی ہم نے اسلام کے علاوہ کہیں اور عزت تلاش کی ہے تو اللہ نے ہمیں رسوا کیا ہے ۔ نیز، تنظیم دینی علوم کی مضبوتی کے ساتھ ساتھ عصری علوم اور خصوصاً جدید ٹیکنالوجی کے شعبہ جات ہر بلاک اور اضلاع و صوبائی طور پر قائم کرنے کی فکر مند ہے،تاکہ ملک کے بچوں کا مستقبل اعلیٰ طریقہ سے سنوارا جا سکے ،اللہ رب العزت اپنے فضل و کرم سے تنظیم کے اراکین کو ہمیشہ ثابت قدمی اور خدمت خلق کا جذبہ عطا فرمائے ۔ آمین



میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر۔ لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا



our mission

Lorem ipsum dolor sit amet consect adipisscin elit proin vel lectus ut eta esami vera dolor sit amet consect

Read more

Make donations

Lorem ipsum dolor sit amet consect adipisscin elit proin vel lectus ut eta esami vera dolor sit amet consect

Read more

Help & support

Lorem ipsum dolor sit amet consect adipisscin elit proin vel lectus ut eta esami vera dolor sit amet consect

Read more

our programs

Lorem ipsum dolor sit amet consect adipisscin elit proin vel lectus ut eta esami vera dolor sit amet consect

Read more